29 اکتوبر 2026 - 16:05
ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اثرات؛ دنیا بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ

ایران کے خلاف امریکی جنگ کے نتیجے میں توانائی، خام مال اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کے باعث دنیا کی بڑی غذائی اور صارفین کی اشیا بنانے والی کمپنیاں 2027 میں قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کوکاکولا، نیسلے اور دیگر بڑی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور صارفین کی قوتِ خرید میں کمی کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، دنیا کی بڑی غذائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا بنانے والی کمپنیوں نے 2027 میں اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث توانائی، خام مال اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور دوسری جانب صارفین کی قوتِ خرید پر دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال نے عالمی مہنگائی کے مسلسل برقرار رہنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کوکاکولا، پروکٹر اینڈ گیمبل، نیسلے اور ریکٹ جیسی بڑی کمپنیوں کو اپنے منافع کی شرح برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پیداواری اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ صارفین روزمرہ استعمال کی اشیا کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

کئی سال سے فروخت میں کمزوری کے بعد کمپنیوں پر یہ دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ کورونا وبا کے بعد مسلسل قیمتیں بڑھنے کے باعث صارفین پیک شدہ غذائی مصنوعات اور معروف برانڈز کی اشیا خریدنے میں زیادہ احتیاط کرنے لگے ہیں۔

کمپنیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال درآمدات پر عائد کیے گئے کسٹم محصولات کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔ اب ان محصولات کے ساتھ توانائی اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

2027 میں قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

کوکاکولا کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہے کہ صارفین کو درپیش معاشی دباؤ 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے رسد، سامان کی ترسیل اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کی جانب بھی توجہ دلائی۔

یہ بیان کمپنی کی جانب سے سالانہ منافع کی پیش گوئی میں اضافے کے ساتھ سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی اخراجات کے مسلسل دباؤ کے باوجود کوکاکولا نے اپنے منافع کے امکانات کے بارے میں بہتر اندازہ لگایا ہے۔

اسی سلسلے میں ریکٹ کے چیف ایگزیکٹو کرس لیچٹ نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکہ کے صارفین شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں کمپنیوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر صارفین پر منتقل کیا جائے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر روزمرہ استعمال کی اشیا اور پیداواری خام مال کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو ریکٹ کو اپنی مصنوعات مہنگی کرنا پڑ سکتی ہیں۔ تاہم، کمپنی کو قیمتوں میں اضافے اور صارفین کو برقرار رکھنے کے لیے رعایتوں اور تشہیری مہمات پر اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یہ بیان ریکٹ کی جانب سے سالانہ آمدنی کی پیش گوئی میں کمی کے بعد سامنے آیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے حصص کی قیمت میں تقریباً پانچ فیصد کمی ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha